ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’کیا انھیں سرکاری قتل نہیں کہا جانا چاہیے؟‘ کرناٹک میں اساتذہ کی اموات پر کانگریس نے حکومت سے پوچھا سوال

’کیا انھیں سرکاری قتل نہیں کہا جانا چاہیے؟‘ کرناٹک میں اساتذہ کی اموات پر کانگریس نے حکومت سے پوچھا سوال

Sun, 26 Feb 2023 11:02:01    S.O. News Service

بنگلورو، 26/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) پنشن کا فائدہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دے رہے دو اساتذہ کی مبینہ خودکشی کے بعد کرناٹک کانگریس نے برسراقتدار بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے دونوں ہی اساتذہ کی موت کو ’سرکاری قتل‘ قرار دیا اور بی جے پی کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔

حزب مخالف لیڈر سدارمیا نے سوال کیا کہ ’’اگر فرقہ وارانہ تصادم میں موت ہوتی ہے تو بی جے پی کے لیڈر گھنٹے بھر کے اندر اپنے گھروں کو مکھیوں کی طرح اڑا دیں گے۔ کیا انھیں نہیں لگتا کہ اساتذہ کی زندگی اہم ہے، جو ہزاروں طلبا کا مستقبل سنوارتے ہیں؟‘‘ انھوں نے مزید سوال کیا کہ باگلکوٹ کے ٹیچر سدیا ہریمتھا اور رائچور ضلع واقع سندھانور کے شنکرپا بوراڈی نے گزشتہ ہفتہ خودکشی کر لی تھی، کیونکہ برسراقتدار بی جے پی حکومت نے ان کے مطالبات کو پورا نہیں کیا تھا۔ کیا انھیں سرکاری قتل نہیں کہا جانا چاہیے؟

سدارمیا نے کہا کہ امدد یافتہ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ 141 دنوں سے فریڈم پارک کے احاطہ میں دھرنا دے رہے ہیں۔ ان کے لیے کسی نے کوئی فکر نہیں کی ہے۔ کیا بی جے پی حکومت کو ذرا سی بھی جانکاری نہیں ہے کہ اساتذہ اپنی پنشن مانگ رہے ہیں؟ سدارمیا نے سمجھایا کہ برسراقتدار بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ انھیں 141 دنوں کے بعد بھی اساتذہ کے احتجاج کے بارے میں پتہ نہیں چلا اور انھوں نے خود اعتراف کیا کہ ان کی حکومت اتنے دنوں تک کوما میں رہی۔ جب وہ کمیشن وصولنے میں مصروف ہیں تو وہ غریبوں کی آواز بھی کیسے سن سکتے ہیں؟ سدارمیا نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ سے بات کر ان کے مطالبات کو پورا کرنا چاہیے۔


Share: